(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل نے 83 دن سے مسلسل بھوک ہڑتال کرنے والے صحافی محمد اسامہ القیق کی اسرائیلی جیل کے العفولہ اسپتال سے فلسطین کے کسی اسپتال میں منتقلی کی درخواست ایک بار پھر مستردکردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی تنظیم کلب برائے اسیران کی لیگل یونٹ کے ڈائریکٹر جواد بولس نے بتایا کہ اسرائیلی پراسیکیوٹر نے ایک بار پھر القیق کی فلسطینی اسپتال منتقلی کی درخواست مسترد کردی ہے اور کہا ہے کہ القیق کی کسی فلسطینی اسپتال میں منتقلی کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔خیال رہےکہ اسرائیلی عدالت کی جانب سے پراسیکیوٹر جنرل سے القیق کی فلسطینی اسپتال منتقل کیے جانے کی درخواست پر جواب داخل کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد صہیونی پراسیکیوٹرنے عدالت میں اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ القیق کو کسی فلسطینی اسپتال منتقل نہیں کیا جاسکتا ہے۔
جواد بولس نے کہا کہ اسرائیلی سپریم کورٹ آج سوموار کے روز خصوصی سماعت میں القیق کی بھوک ہڑتال کے حوالے سے درخواست پرغور کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ القیق کے وکلاء نے اسرائیلی عدالت سے ایک بار پھر اس کی فلسطینی اسپتال منتقل کرنے درخواست کی ہے۔
دوسری جانب 83 دن سے بھوک ہڑتال کرنے والے صحافی محمد القیق کی حالت بدستور تشوشناک ہے اور کسی بھی وقت اس کی موت کی خبر سنی جا سکتی ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل سات ہزار فلسطینیوں میں سے 700 فلسطینیوں کو انتظامی حراست کی پالیسی کے تحت بغیر مقدمہ چلائے قید رکھا گیا ہے۔ ان میں 83 دن سے بھوک ہڑتال کرنے والے صحافی محمد القیق بھی شامل ہیں، جنہیں صہیونی حکام نے پچھلے سال 21 نومبر کو حراست میں لیا۔ دوران حراست انہیں وحشیانہ تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں انہیں انتظامی حراست کے تحت پابند سلاسل کردیا گیا مگر القیق نے اپنی بلا جواز اسیری کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کردی۔ یہ بھوک ہڑتال آج بھی جاری ہے۔
