رپورٹ کے مطابق کلب برائے اسیران کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کی جانب سے 24 مارچ کو اسرائیلی فوجیوں کی دہشت گردی کے نتیجےمیں شہید ہونے والے فلسطینی نوجوان عبدالفتاح الشریف کے پوسٹ مارٹم کے لیے فلسطینی ڈاکٹر کوبھی شامل کرنے کی درخواست دی گئی تھی مگرقابض حکام نے وہ درخواست مسترد کردی ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے چوبیس مارچ کو فلسطین کے جنوبی شہر الخلیل میں تل ارمیدہ کے مقام پر ایک فلسطینی نوجوان کو گولیاں مار کر زخمی کردیا تھا۔ کچھ دیر کے بعد ایک دوسرے فوجی نے زخمی فلسطینی نوجوان کے سرمیں گولیاں مار کر اسے شہید کردیا۔ اس واقع پر فلسطین سمیت دنیا بھرمیں شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے فلسطینی نوجوان کو بے گناہ گولیاں مار کر شہید کرنے میں ملوث صہیونی فوجی کو گرفتار کیا ہے، تاہم اسے بچانے کے لیے بھی مہم جاری وساری ہے۔
اسرائیلی فوجیوں نے شہید فلسطینی نوجوان الشریف کا جسد خاکی قبضے میں لے رکھا اور پوسٹ مارٹم کی آڑ میں اس کے جسم کی چیر پھاڑ کی گئی ہے۔ کلب برائے اسیران کی جانب سے درخواست دی گئی تھی کہ شہید فلسطینی کے پوسٹ مارٹم کے لئے فلسطینی ڈاکٹر کی خدمات بھی حاصل کی جائیں مگر صہیونی حکام نے فلسطینی ڈاکٹر سے خدمات لینے کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔
