رپورٹ کے مطابق فلسطینی انسانی حقوق کے مندوب محمد محمود نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ جمعرات کی شام صہیونی حکام نے بیت المقدس میں شہید فلسطینی فواد ابو رجب کی والدہ میساء کو ایک سیکیورٹی کیمپ میں طلب کیا۔ میساء کے سیکیورٹی مرکز میں آنے کے بعد اس کی بیٹی 19 سالہ ریم، 16 سالہ روز، بیٹے 15 سالہ محمود اور 14 سالہ محمد کو بھی مسکوبیہ پولیس سینٹر بلا لیا گیا۔
پورے خاندان سے کئی گھنٹے پوچھ تاچھ کی گئی اور آخر میں انہیں ایک نوٹس جاری کیا گیا جس میں انہیں کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر بیت المقدس سے نکل جائیں کیونکہ وہ غیرقانونی طورپر وہاں رہ رہے ہیں۔
اس کے بعد صہیونی پولیس نےشہید ابو رجب کے خاندان کے تمام افراد جس میں شہید کی والدہ، بہنیں اور بھائی شامل ہیں پولیس کی گاڑی میں بٹھا کر قلندیا چیک پوسٹ سے مغربی کنارے میں پہنچا دیے۔
ادھر اسرائیل کی ایک عدالت نے شہید ابو رجب کے زیرحراست والد کوآئندہ سوموار تک پولیس کی حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ان پرالزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے مزاحمتی کارروائی میں بیٹے فواد ابو رجب کی معاونت کی تھی۔
خیال رہے کہ فواد ابو رجب کو صہیونی حکام نے گذشتہ منگل کو بیت المقدس میں شاہراہ صلاح الدین پرگولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔ شہادت سے قبل فواد نے فائرنگ کرکے ایک یہودی فوجی کو کو ہلاک کیا تھا۔
