اسرائیلی فوج نے مقبوضہ شمالی فلسطین کی حیفا بندرگاہ کے ساتھ ساتھ کئی مقامات پر میزائل شکن سسٹم "آئرن ڈوم” نصب کرنا شروع کیے ہیں، تاکہ کم فاصلے تک مار کرنے والے کسی بھی میزائل کوہدف تک پہنچنے سے قبل ہی تباہی کیا جا سکے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی فوج نے جمعہ کو حیفا بندرگاہ میں بعض مقامات پر "آئرن ڈوم” کی بیٹریاں نصب کیں۔ مزید بھی کئی مقامات پر یہ نظام نصب کیا جائے گا۔
اخبارات نے عسکری ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ حیفا میں آئرن ڈوم سسٹم کی تنصیب کسی بیرونی خطرے کے پیش نظر نہیں کی گئی بلکہ اس کا مقصد معمول کی فوجی تربیت کی کارروائی کو آگے بڑھانا ہے۔
تاہم ایک دوسرے ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت کو اپنی شمالی سرحد غیرمحفوظ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ بالخصوص حزب اللہ اور ایران کے شامی بحران میں مداخلت کرنے کے باعث اسرائیل اس لڑائی کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔ حیفا میں آئرن ڈوم کی تنصیب اسی مقصد کے تحت ہوسکتی ہے۔
خیال رہےکہ "آئرن ڈوم” اسرائیل کا میزائل اورراکٹ شکن نہایت مہنگا سسٹم ہے۔ صہیونی حکومت نے اسے تین سال قبل امریکا کی مدد سے تیار کرکے فلسطینی شہرغزہ کی پٹی کی سرحد اور بعض دوسرے مقامات پر نصب کیا تھا۔
سنہ 2011ء میں 210 ملین ڈالرز کی رقم سے محض پانچ آئرن ڈوم بیٹریاں تیار کی گئی تھیں۔ یہ متحرک سسٹم کسی بھی سمت سے آنے والے کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ خود کار راکٹ لانچر سے انہیں فضاء میں تباہ کرنے بھی صلاحیت رکھتا ہے۔ مقبوضہ فلسطین میں مقامی فلسطینی مزاحمت کاروں کے تیار کردہ راکٹوں کو تباہ کرنے میں اسے خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
