مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق "سدیروت” یہودی کالونی کے دورے کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر لائبرمین نے کہا کہ حماس کے نیٹ ورک اس کے تمام اہم مرکزی رہ نماؤں کو حملوں کا نشانہ بنانا ضروری ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس سے تعلق رکھنے والا ہر فرد ہمارے نشانے پر ہے اور ہمیں اس کے خلاف قانونی کارروائی کا حق حاصل ہے۔
اس موقع پر اسرائیلی کالونی "سدیروت” کے میئر الون ڈاویڈی نے کہا کہ حماس کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملے نہ کرنے کا دعویٰ عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے کہا کہ حماس اور کئی دوسرے فلسطینی عسکری گروپ ایک طرف فائر بندی کی بات کرتے ہیں اور دوسری جانب راکٹ حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو جنوبی اسرائیل کے یہودی باشندوں کے تحفظ کے لیے فلسطینی عسکریت پسندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔
ادھر اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے گیند اب حماس کے کورٹ میں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس کی جانب سے حملے نہ کیے گئے تو اسرائیل بھی کارروائی نہیں کرے گا۔ جنگ بندی کا جواب جنگ بندی ہی میں دیا جائے گا۔
ادھر بی بی سی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حماس اور اسرائیل جلد ہی جنگ بندی کے ایک نئے معاہدے پر اتفاق کریں گے۔
