فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیل کے ظالمانہ اقدامات کی نت نئی مثالیں سامنے آ رہی ہیں۔ اسے فلسطینیوں سے نفرت یا ان سے خوف سمجھا جائے کہ ایک بارہ سالہ بچی پر بھی مسجد اقصیٰ کے دروازے بند کردیے گئے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی پولیس نے 12 سالہ یاسمین عبدالرحمان الشریف کو حراست میں لے رکھا تھا۔ کل بدھ کو اسے اس شرط پر رہا کیا گیا کہ وہ اگلے پندرہ دن مسجد اقصیٰ میں نہیں داخل ہوگی۔ذرائع کے مطابق یاسمین الشریف کو صہیونی فوج نے دو روز قبل مسجد اقصیٰ کے احاطے سے حراست میں لیا۔ دوران حراست اسے وحشیانہ تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔ تاہم کل بدھ کو اسے رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن ساتھ ہی اسے تاکید کی گئی کہ وہ دو ہفتے مسجد اقصیٰ میں نہیں آئے گی۔
