فلسطینی اراضی کے دفاع اور یہودی آباد کاری مخالف کمیٹی کے سربراہ وکیل بسام بحر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سول انتظامیہ نے ایک منصوبے کی منظوری دیدی ہے جس کے تحت تعمیر کیے گئے گھروں میں عرب بدووں کو بسایا جائے گا۔ یہ وہ عرب بدو ہیں جنہیں 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے وقت ہجرت پر مجبور کیا گیا تھا اور اب ان کے زیر استعمال ہزاروں ایکڑ اراضی خالی کروا کر انہیں تعمیر کیے گئے خصوصی گھروں میں رہائش دی جائے گی۔
اتوار کے روز ذرائع ابلاغ کو دیے گئے اپنے بیان میں بسام بحر نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں القدس شہر میں رہنے والے تمام عرب بدووں کو ہجرت پر مجبور کرکے نئی خیمہ بستی میں بسایا جائے گا۔ اس طرح ہزاروں ایکڑ اراضی پر قبضہ کرکے اسے یہودی بستیوں میں توسیع کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اسرائیل ان علاقوں میں عرب بدووں کی آبادیوں کو یہودی بستیوں کی توسیع میں بڑی رکاوٹ شمار کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس نئے صہیونی منصوبے سے عربوں کی مشکلات میں شدید اضافہ ہوجائے گا۔ ان کو انتہائی چھوٹے کمروں میں زندگی بسر کرنا ہوگی۔ ان کے لیے ابو دیس کی انتہائی پست اراضی پر رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے۔ تمام عالمی ادارے اور تنظمیں اس اراضی کو رہائش کے قابل شمار نہیں کرتے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
