مدار سینٹر نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اسرائیل کے باسی بھی ان ملکوں کے فہرست میں شامل ہو رہے ہیں جو تنازعات اور خوف سے پاک بہتر زندگی کے متلاشی ہیں۔ اسرائیل کی معاشی صورتحال ابتر ہونے کی وجہ سے یہودی آبادکاروں کی غربت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث انہوں نے اپنے لئے پرامن بہتر زندگی کے متبادل تلاش کرنا شروع کر دیئے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کو ملنے والی ‘مدار’ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے ایسے گروپوں کے سامنے آنے کی وجوہات معاشی اور معاشرتی ہیں۔ ان میں سب سے اہم بات غزہ پر حالیہ اور سنہ 2006ء میں لبنان پر لشکر کشی کے بعد پیدا ہونے والا ڈر ہے جو پرامن زندگی کے متلاشی یہودیوں کے لیے سوہان روح بنا ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دوسری فلسطینی اتنفاضہ اور حالیہ جھگڑوں نے فلسطینی معاشرے کو پہلی مرتبہ الٹ کر رکھا دیا ہے، اسرائیلی معاشرے میں یہ تبدیلی اپنی نوعیت کی منفرد ‘چینج’ ہے۔
مدار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی کی بگڑتی ہوئی اقتصادی صورتحال اور ٹیکسوں میں اضافہ، مہنگی رہائش، اسرائیلی شہریوں کو ملنے والی حکومت سبسڈی کا خاتمہ ماضی صہیونی ریاست سے یہودی آبادکاروں کی ‘ہجرت معکوس’ کا باعث بنتی رہی ہیں۔
جرمنی سے اسرائیل آباد ہونے والے یہودی ان دنوں صہیونی ریاست اور اپنے اصل ملک کے معاشی انڈیکٹرز کے ساتھ موازنہ کرتے نظر آ رہے ہیں، جرمنی میں تعلیم مفت ہے جبکہ برلن میں قیمتیں آج بھی اسرائیل کے مقابلے میں تین گنا کم ہیں۔
برلن سے بے آباد ہونے والوں کے لئے چلائی گئی مہم کے نگران حلقوں کا کہنا ہے کہ انہیں حالیہ ایک ہفتے کے اندر جرمن واپس جانے کی دس ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ اس کے بعد تنظیم نے جرمن چانسلر انجیلا مرکل سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل میں آباد ہونے والے ہزاروں یہودی آبادکاروں کی وطن واپسی کا ویزہ جاری کرنے کی منظوری دیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
