اسرائیلی کابینہ کو آج بروز جمعہ انسداد ‘دہشت گردی’ کے قانون کا مسودہ پیش کیا جا رہا ہے۔ عبرانی اخبار ‘یدیعوت احرنوت’ کے مطابق قانون سازی کے بارے میں وزارتی کمیٹی اتوار کے روز اس مجوزہ قانون کی منظوری دے گی۔
اخبار کے مطابق قانون کی تیاری میں چار برس کا عرصہ لگا ہے اور اس میں صہیونی حکام کے بہ قول ‘فلسطینی دہشت گردی’ کا قلع قمع کرنے کے لئے دور رس اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ قانون کی متعدد شقیں سابق حکومت کے قانونی مشیر مینی مزوز، موجودہ قانونی مشیر یہودا وینسٹائن اور ان کے معاون راز مزری نے تیار کی ہیں۔
یدیعوت احرنوت کے مطابق انسداد دہشت گردی کے نئے قانون کی منظوری سے سن 1945ء کے ہنگامی قوانین کا خاتمہ ہو جائے گا۔ نئے قانون میں ملزموں کے ٹرائل، سزاٶں کی مدت، تفتیش اور دہشت گردی میں ملوث افراد کی جائیداد ضبطی جیسے احکامات متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ دہشت گردوں کے معاشی ڈھانچے پر ضرب لگائی جا سکے جس کا سہارا لیکر وہ عوام کے اندر چھپ کر اپنی کارروائیاں کرتے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
