القدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن نے اسرائیلی فورسز کی جانب سے مسجد اقصی پر کیے گئے حالیہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبلہ اول پر یہودی آباد کاروں اور قابض اسرائیلی فوج کے حملوں میں تیزی کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل مسجد اقصی پر مکمل قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
القدس فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر جنرل نے یاسین حمود نے کہا کہ صہیونی حکومت مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام کو گرا کر اس کی جگہ ھیکل سلیمانی تعمیر کرنے کے اپنے منصوبے پر عمل کرنے کے لیے بے تاب ہوتی جارہی ہے اسی لیے مسجد اقصی پر حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔
یاسین حمود نے کہا کہ اسرائیل مسجد اقصی کے تمام انتظامات اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے بے تاب ہے۔ اسلامی اوقاف سے مسجد اقصی کے انتظامات چھیننے کے بعد مسجد میں نمازیوں کی آمد و رفت اور یہاں پر لگائے جانے والے تعلیمی حلقوں پر اسرائیل کا کنٹرول ہو جائے گا۔
اسرائیلی حکومت قبلہ اول کی حفاظت کے لیے مسجد اقصی کے صحن میں منعقد ہونے والے تعلیمی حلقوں کو ختم کردے گی، جس کے بعد اسے مسجد اقصی کے خلاف کارروائیاں کرنے کی کھلی چھوٹ مل جائے گی۔ یاد رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران مسجد اقصی کے احاطے میں داخل ہونے والے انتہاء پسند یہودیوں اور سکیورٹی اہلکاروں نے مسجد میں انتہائی اشتعال انگیز نوعیت کے اقدام کی کوشش کی، مسجد میں موجود طلبہ و طالبات ان کے رستے میں مزاحم ہو گئے۔
یاسین حمود نے صہیونی اہلکاروں کی جانب سے مسجد میں موجود نمازی مرد و خواتین پر بہیمانہ تشدد اور اس سے قبل یہاں پر قرآن پاک کے نسخے کی بے حرمتی کے واقعے کی بھی شدید مذمت کی۔
القدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن نے عالم اسلام سے مطالبہ کیا کہ قبلہ اول پر جاری اسرائیلی جارحیتیں روکنے کے لیے اس پر شدید دباؤ ڈالا جائے۔ انہوں نے عرب اور اسلامی ملکوں میں انسانی حقوق کے لیے متحرک تنظیموں سے بھی اس ضمن میں فوری کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
