• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

اسرائیل مسجد ابراہیمی اور مسجد بلال کو یہودی ورثہ قرار دینے سے دستبردار

بدھ 15-02-2012
in فلسطین
0
plf masjid_bilial
0
SHARES
0
VIEWS

plf masjid_bilial

اسرائیل، اقوام متحدہ کے مسلسل مطالبات کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں مسجد ابراہیمی اور مسجد بلال بن رباح کو یہودی تاریخی ورثہ قرار دینے کے فیصلے سے دستبردار ہو گیا ہے۔

 

مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت اور تعلیم "یونیسکو”نے اسرائیلی حکومت سے کئی مرتبہ تکرار کے ساتھ کہا تھا کہ وہ مغربی کنارے کی دو تاریخی مساجد حرم ابراہیمی اور جامع مسجد بلال بن رباح کو یہودیوں کے تاریخی ورثے کی فہرست سے نکال دے لیکن اسرائیل اقوام متحدہ کے اس مطالبے کو مسلسل نظرانداز کرتا آ رہا تھا۔ یونیسکو کے مطابق مسجد ابراہیمی اور جامع مسجد بلال بن رباح دونوں فلسطینیوں کےمقدس مقامات ہیں اور یہ دونوں بڑی مساجد فلسطینیوں کا تاریخی ورثہ ہیں جن پر یہودیوں کا کوئی حق نہیں ہے۔
دوسری جانب یہودیوں نے مسجد ابراہیمی اور جامع مسجد بلال بن رباح کو اپنے تاریخی ورثے کا اہم حصہ قرار دیا تھا۔ یہودیوں کے نزدیک مسجد ابراہیمی ایک مقدس مقام تھا جس پر ملکیت کا حق صرف یہودیوں کے پاس تھا جبکہ مسجد بلال بن رباح کو”قبۃ الرحیل”قرار دیا گیا تھا۔ یہودیوں کے نزدیک یہ دونوں مقامات بھی ان کے لیے اتنے ہی مقدس ہیں جتنا کہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ ہیں۔ وہ مسجد اقصیٰ کو تسلیم نہیں کرتے اور ان کا دعویٰ ہے کہ مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی تعمیر کیا جائے گا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کی موجودہ انتہا پسند حکومت اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے مسجد ابراہیم اور جامع مسجد بلال بن رباح کی تعمیر و مرمت کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا تاہم اب یونیسکو کے مطالبے کے بعد ان دونوں مقامات سے اسرائیل دستبردار ہو گیا ہے۔
خیال رہے کہ یونیسکو نے اکتوبر2010ء کو ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں فلسطین کے اسرائیلی زیرتسلط کئی تاریخی مقدس مقامات کو اسلامی تاریخی ورثہ قرار دیا تھا، ان میں مذکورہ دونوں مساجد بھی شامل تھیں۔ یونیسکو نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مسجد بلال اور مسجد ابراہیمی دونوں کی ملکیت چھوڑ دے کیونکہ یہ اسلام اور مسلمانوں کے تاریخی مقامات ہیں۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.