فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ماہ صیام میں فلسطینی اسیران کے لیے پابندیوں کا ایک نیا پروگرام ترتیب دیا ہے
جس میں قیدیوں پر سحر و افطار کے اوقات میں جیلوں کی کینٹین پر جانے پر پابندی بھی شام ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کے ادارے "اسیران اسٹڈی سینٹر” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی جیل حکام نے ماہ صیام کے دوران فلسطینی اسیران کو سہولیات کی فراہمی کے بجائے انہیں تنگ کرنے کے لیے پابندیوں کا ایک نیا "پیکج” تیار کیا ہے۔ پابندیوں میں کئی نئی شرائط بھی شامل ہوں گی۔ انہی میں قیدیوں کی عزیزوں سے ملاقات اور سحر و افطار کے دوران کینٹین سے اشیاء کی خریداری پر پابندی بھی شامل ہیں۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی جیلوں کی جانب سے مشترکہ طور پر رمضان المبارک کے دوران جو شیڈول سامنے آیا ہے اس کے تحت قیدیوں تک دینی کتب اور لٹریچر کی فراہمی پر پابندی ہوگی۔ قیدی نماز تراویح سمیت کسی بھی دوسری نماز کو با جماعت ادا نہیں کرسکیں گے۔ یوم القدس کی رات کو فلسطینی قیدیوں کو ایک دوسرے سے ملنے پر پابندی ہوگی۔
مرکز اسیران کی کے ڈائریکٹر رافت حمدونہ کا کہنا ہے کہ ماہ صیام میں اسرائیلی جیل انتظامیہ کی طرف سے قیدیوں کو انتہائی ناقص اور معمولی خوراک فراہم کی جاتی ہے۔ قیدی ٹھنڈے پانی سے محروم ہوتے ہیں۔ ایسے میں کینٹین کے استعمال پر پابندی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ قیدیوں کو تازہ کھانے کے بجائے کئی گھنٹے قبل ہی خوراک پہنچا دی جاتی ہے۔ افطاری کے لیے کھانا دن ایک بجے اور سحری کے لیے شام چھ بجے قیدیوں کو کھانا دیا جاتا ہے۔ فلسطینی قیدیوں کے مقابلے میں اسرائیل کے جرائم پیشہ قیدیوں کو "وی آئی پی” سہولتیں میسر ہوتی ہیں۔ انہیں جیلوں کی کینٹین کے استعمال پر پابندی نہیں ہوتی۔ وہ جب اور جو چیز چاہتے ہیں انہیں کینیٹن سے خرید کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
