اسرائیلی جیلوں سے رہا ہونے والے فلسطینی اسیران نے حلفیہ گواہیوں میں بتایا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مشرقی غزہ میں کی جانے والی جارحانہ کارروائیوں میں فلسطینی اسیران کو بطور انسانی ڈھال استعمال کیا جارہا ہے۔
یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو حماس پر فلسطینی شہریوں کو بطور ڈھال استعمال کرنے کے الزامات لگا رہے ہیں۔ 19 سالہ فلسطینی نوجوان بکرون النجار نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج نے انہیں خزاعہ میں ان کے گھر سے اغوا کر لیا اور اس کے بعد انہیں حکم دیا کہ وہ ایک حملہ آور ٹینک کے سامنے والے حصے پر بیٹھ جائے۔
بکرون کہنا تھا "جب میں نے حملہ کئے جانے والے علاقے میں بھاری فائرنگ اور بمباری کو دیکھا تو مجھ پر ناقابل برداشت خوف و ہراس کی حالت نے غلبہ پالیا۔ ہر ایک مارٹر حملے سے مجھے اپنی موت قریب نظر آ رہی تھی۔”
عینی شاہدین نے تصدیق کی ہے کہ بکرون اسرائیلی فوج کی جانب سے بطور ڈھال استعمال کیا جانے والا اکیلا فلسطینی شہری نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج فلسطینی مزاحمت کی جوابی کارروائیوں سے بہت زیادہ خوفزدہ ہوگئی ہے اسی لئے ان کی تباہ کن کارروائیوں سے بچنے کے لئے فلسطینیوں کو بطور ڈھال گاڑیوں اور ٹینکوں کے آگے بیٹھا دیا جاتا ہے۔
سعید ابو رداء کا بیان بھی کچھ اسی طرح کا تھا۔ انہیں بھی قابض حکام نے تشدد کا نشانہ بنا کر فلسطینی گھروں میں لی جانیوالی تلاشی کے دوران بطور ڈھال استعمال کیا تھا۔
"وہ لمحہ انتہائی خوفناک تھا۔ فوجیوں نے مجھے فرنٹ سیٹ پر بیٹھا دیا تھا جبکہ وہ خود ٹینک کے اندر چھپ کر بیٹھ گئے۔”
پرانی پالیسی کی تجدید:
اس طرح کے اسرائیلی جرائم پہلی بار دیکھنے میں نہیں ملے بلکہ اس سے پہلے بھی غزہ اور مغربی کنارے پر اسرائیلی کارروائیوں کے دوران اس طرح کے واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔ سال 2008 اور 2009 میں اسرائیلی جارحیتوں کے دوران معصوم اسرائیلیوں کو بطور ڈھال استعمال کئے جانے کے واقعات میں شدت دیکھنے میں آئی تھی۔
انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے اس نوعیت کا سب سے ہوش ربا واقعہ اس وقت دیکھنے میں جب قابض اسرائیلیوں نے ایک فلسطینی بچے کو مجبورکیا کہ وہ تل الھویٰ میں گھروں کی تلاشی لے اور پھر اسے حکم دیا کہ وہ ایک پراسرار بم کی جانچ پڑتال کرے۔
کھلم کھلا خلاف ورزی:
انسانی حقوق کے کارکن یاسر ابو الغفور نے بتایا ہے کہ شہریوں کو بطور انسانی ڈھال استعمال کرنے کے واقعات کو بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا جو کہ شہریوں کی جان کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی کارروائیوں سے منع کرتے ہیں۔
چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 28 کے مطابق کسی بھی شخص کو بطور بلٹ پروف جیکٹ استعمال کرنے پر سختی سے پابندی ہے اور کسی بھی مسلح جارحیت میں شہریوں کو مکمل طور پر محفوظ رکھنے کا کہتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
