مرکز اطلاعات فلسطین کی جانب سے وکی لیکس کے ذریعے افشاء ہونے والی سی آئی اے کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کارکردگی اور بیرون ملک کارروائیوں کے دعوے محض پروپیگنڈے کی حد تک محدود ہیں جو امریکی میڈیا کی خبروں یا امریکی سیاست دانوں کے بیانات کی حد تک ہیں یازیادہ سے سے زیادہ ہالی وڈ کی فلموں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ عملا اسرائیلی خفیہ ادارے اپنے مخالفین کو دبانے یا انہیں کمزور کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے اپنے مخالفین کو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے قتل کرنے کی پالیسی اپنائی گئی جو کہ مکمل طور پر نہ صرف ناکام رہی بلکہ اس کے الٹے نتائج سامنے آئے۔ اسرائیل کی کوئی بھی انتقامی پالیسی چاہے وہ سنہ 1970 ء کے عشرے میں تحریک فتح اور عوامی محاذ جیسی سیکولر جماعتوں کے خلاف اپنائی گئی یا حزب اللہ اور اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ جیسی اسلام پسند جماعتوں کےخلاف اختیار کی گئی وہ بہرصورت ناکام رہی ہے۔
سی آئی اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی خفیہ اداروں نے تحریک فتح کو کچلنے کے لیے ماضی میں ٹارگٹ کلنگ کا راستہ اختیار کیا۔ اس کے نتیجے میں کئی ایسے افراد بھی مارے گئے جن کا تحریک میں کوئی عسکری کردار نہیں تھا۔ اس کے علاوہ بیرون ملک کارروائیوں میں بے گناہ افراد کی ہلاکت سے اسرائیلی جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہ صہیونی ریاست کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کی فلسطینی تحریک مزاحمت کمزور کرنے کی پالیسی کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دیتی کیونکہ اندرون فلسطین اور بیرون موساد جہاں بھی کوئی کارروائی کرتی ہے تو اسے لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔
