اسرائیل نے فرانس سے فلسطینیوں سے اظہار ہمدردی کرنے آنے والے انسانی حقوق کے نو رضاکاروں کو تین دن حراست میں رکھنے کے بعد ڈیپورٹ کردیا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے انسانی حقوق کے کارکنوں پرالزام عائد کیا ہے کہ وہ فلسطین میں اشتعال انگیزی پھیلانے کے لیے آنا چاہتے تھے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کے دسیوں کارکن گذشتہ پیر اور منگل کو مقبوضہ فلسطین کے "اللد” ہوائی اڈے پر اترے تھے۔ جہاں انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں "فلسطین ویلکم” کی تقریبات میں شرکت کرنا تھا، تاہم صہیونی حکومت نے کئی رضاکاروں کو فورا واپس بھیج دیا اور کوئی کوحراست میں لے لیا تھا۔ حراست میں لیے جانے والے رضاکاروں کی تعداد 80 بتائی جاتی ہے، جن میں برطانیہ، فرانس، جرمنی، امریکا اور کینیڈا کے شہری بھی شامل تھے۔
اسرائیلی محکمہ ایمی گریشن کی ترجمان نے ایک بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ فرانس سے آئے انسانی حقوق کے نو کارکن فلسطین میں اشتعال پھیلانا چاہتے تھے۔ اس لیے انہیں تحویل میں لینے کے بعد واپس بھیج دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چالیس رضاکار تاحال اسرائیلی پولیس کی تحویل میں ہیں۔ انہیں نہ توفلسطین آنے کی اجازت ہے اور نہ ہی واپس بھیجا گیا ہے۔
خیال رہے کہ فلسطین ویلکم کے عنوان سے گذشتہ تین سال امن تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ اس سال ان تقریبات کے دوران غیرملکی امدادی اداروں کے تعاون سے مغربی کنارے میں اسکولوں اور دیگرتعلیمی اداروں کا ایک نیٹ ورک قائم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔ تقریبات میں دنیا بھرسے 1500 سے زائد انسانی حقوق کے مندوبین مدعو کیے گئے تھے تاہم اسرائیلی پابندیوں کے باعث انسانی حقوق کے رضاکاروں کی بڑی تعداد ان تقریبات میں نہیں پہنچ سکے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

