مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حال ہی میں اسرائیلی فوج کے ایک سینیر افسر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بھی اس امر کا کھلا اعتراف کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پچھلے ایک سال سے مغربی کنارے میں جو ہل چل ہو رہی ہے وہ کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ غزہ کی پٹی کی طرح فلسطینی مزاحمت کار مغربی کنارے میں بھی سرگرم ہونا چاہتے ہیں اور انہوں نے اس مقصد کے لیے زمین ہموار کرنا شروع کردی ہے۔ عین ممکن ہے مزاحمت کاروں نے غزہ کی پٹی کی سرنگوں اور زمین دوز مورچوں کی طرح یہاں بھی سرنگیں کھود رکھی ہوں۔
صہیونی فوج افسر کا کہنا تھا کہ اگر مغربی کنارے میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے کارروائیاں شروع کی تو اس کے نتیجے میں یہودی آباد کار سب سے زیادہ متاثر ہوں گے کیونکہ بہت سی کالونیوں کے گرد کوئی مضبوط حفاظتی دیوار بھی نہیں ہے۔
خیال رہے کہ کسی اسرائیلی فوجی افسر کی جانب سے مغربی کنارے میں سرنگوں کی موجودگی اور فلسطینی مزاحمت کاروں کی سرگرمیوں سے متعلق یہ پہلا اعترافی بیان نہیں بلکہ صہیونی فوج ماضی میں بھی اس طرح کے خدشات کا برملا اظہار کرتی رہی ہے۔
