اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ قابض صہیونی حکومت نے ایک یورپی ملک کے توسط سے ترکی کو سنہ 2010ء میں امدادی بحری جہاز” فریڈم فلوٹیلا” پرحملے کے دوران شہید ہونے والے ترک شہریوں کے ورثاء اور زخمیوں کو ہرجانہ ادا کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
اسرائیلی اخبار”ہارٹز” کی رپورٹ کے مطابق صہیونی حکومت کی جانب سے اپنے ایک دوست یورپی ملک کے ذریعے ترکی کو یہ پیش کش ایک ماہ قبل کی تھی۔ جس میں کہا گیا تھا کہ تل ابیب انقرہ کو ان تمام افراد کے ورثاء کا ہرجانہ ادا کرنے پرتیار ہے جو فوجی کمانڈوز کے کھلے سمندر میں جارحیت میں شہید یا زخمی ہوگئے تھے۔ اس کے لیے اسرائیل نے ترکی کے مطالبے پرچھ ملین ڈالرز کی رقم کا بھی اعلان کیا ہے۔ تاکہ دونوں ملکوں کےدرمیان تعطل کا شکار سفارتی تعلقات ایک مرتبہ پھربحال کیے جاسکیں۔
اخبار نے ترک حکومتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیلی حکومت کو شہداء کے ورثاء کو ہرجانے کی ادائیگی کی شرط پر ترکی متفق نہیں ہوا بلکہ انقرہ نے پیشکش کا پیغام لانے والے یورپی ملک پر واضح کیا ہے کہ جب تک اسرائیل سرکاری طورپر فریڈم فلوٹیلا پرحملے کی غلطی تسلیم کرتے ہوئے اس پر معافی نہیں مانگتا اس وقت تک ہرجانہ بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ ان دنوں ترکی اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی میں کئی یورپی ممالک بھی متحرک دکھائی دیتےہیںتاہم یورپی ذرائع ابلاغ کا بھی یہ کہنا ہے کہ ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن اس مطالبے پر قائم ہیں کہ اسرائیل فریڈم فلوٹیلا حملے پر سرکاری اور اعلانیہ معافی مانگے اور مطالبے کی شرائط کے مطابق شہداء کے لواحقین اور زخمیوں کو ہرجانہ ادا کرے، اس پر یورپی حلقوں کو بھی سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کیونکہ وہ اسرائیل کو معافی پر قائل نہیں کرسکے ہیں صرف ہرجانے کی ادائیگی تک بات پہنچ پائی ہے۔
خیال رہے کہ اکتیس مئی سنہ دو ہزار دس کو عالمی امدادی سامان کی کھیپ لے کر محصور فلسطینی شہر غزہ کی پٹی کیطرف جانے والے عالمی بحری جہازوں کے ایک قافلے پر اسرائیلی بحریہ نے حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں ترکی کے نو رضاکار شہید اور پچاس سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔ اسرائیل نے تمام جہازوں کے عملے اور ان میں موجود چھ سو رضاکاروں کو حراست میں لے لیا تھا اور امدادی سامان لوٹ لیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ترکی اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہیں۔ ترکی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کے جہاز پرحملے پر معافی مانگے اور شہداء کے ورثاء کو حرجانہ ادا کرے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

