فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے کہا ہے کہ اسرائیل امن معاہدے کی شرائط کی پابندی کرتے ہوئے فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے اور یہودی کالونیوں کی تعمیرو توسیع روک دے تو ہم مذاکرات کے لیے فوراً حاضر ہو جائیں گے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی صدر نے ان خیالات کا اظہار اپنے دورہ روس کے دوران ماسکو میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ روسی خبر رساں ایجنسی” اتار تاس” کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ "مذاکرات میں رکاوٹ ہماری جانب سے نہیں بلکہ اسرائیل کی طرف سے پیدا ہوئی ہے۔ ہم نے نو ماہ تک اسرائیل سے مسلسل مذاکرات کیے۔ اگر اسرائیل ایک سو چار فلسطینی قیدیوں کی چوتھی کھیپ رہا کرنے پر تیار ہو تو ہم مذاکرات کی میز دوبارہ سجانے کے لیے تیار ہیں۔
محمود عباس کا مزید کہنا تھا کہ ہم بہر صورت فلسطین پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ فلسطینیوں کو مکمل آزاد اور خود مختار ریاست قائم کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ ہم آزاد ریاست کے مطالبے اور بیت المقدس کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کے مطالبے میں حق بجانب ہیں۔
فلسطینی صدر کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے پہلے تین ماہ میں فلسطینی ریاست اور اسرائیل کی جغرافیائی سرحدوں کے تعین کا معاملہ حل کر لیا جائے۔ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ اسرائیل چار جون 1967 ء سے پہلے والی پوزیشن پر واپس جائے اور سنہ ستاسٹھ کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے علاقوں میں توسیع پسندی کی تمام سرگرمیاں معطل کردے۔
بعد ازاں فلسطینی صدر نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہ نماؤں میں ہونے والی بات چیت میں فلسطین کی موجودہ صورت حال، اسرائیل۔ فلسطین امن بات چیت اور خطے کے دیگر مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر روسی صدر نے کہا کہ ان کا ملک مشرق وسطیٰ امن مذاکرات کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور پرامید ہے کہ فریقین جلد مذاکرات کی بحالی پر آمادہ ہوجائیں گے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
