مرکزاطلاعاات فلسطین کے مطابق اسلامک ایکشن فرنٹ کی سپریم کونسل کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل سے ویزہ لے کر مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کی زیارت کا کوئی شرعی جواز نہیں۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو یہ صہیونی ریاست کے ناجائز قبضے کو جواز فراہم کرنے کے مترادف ہوگا۔ اس سے لوگوں میں ایک غلط روایت پڑ جائے گی اور وہ اسرائیلی قبضے کو تسلیم کرنے لگیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی مذہبی سرپرستی اردنی حکومت کے پاس ہے، لیکن بیرون ملک سے کوئی بھی مسلمان اردن کی حکومت کی اجازت سے نہیں بلکہ اسرائیل کی اجازت سے قبلہ اول میں آسکتا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر مسجد اقصیٰ کا متولی اردن ہے تو اسرائیل سے اس کی اجازت کیوں لی جاتی ہے۔ کیا یہ اسرائیل کے مسجد اقصیٰ پر غیرقانونی تسلط کو تسلیم کرنے کی کوشش نہیں ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اسرائیل کی اجازت کے بغیر بیرون ملک سے مسلمان مسجد اقصیٰ کی زیارت کو پہنچیں۔
خیال رہے کہ اردن کی مذہبی جماعت کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی نے دنیا بھرکے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کی زیارت کے لیے زیادہ سے زیادہ بیت المقدس آئیں۔ مصر کی جامعہ الازھر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب نے بھی فلسطینی اتھارٹی کے موقف کی حمایت کی ہے تاہم اس حوالے سے فلسطین اور عالم اسلام میں مختلف آراء پائی جا رہی ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کی اپیل کے باوجود مسجد اقصیٰ کی زیارت کے مطالبے کو زیادی پذیرائی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
