عوام محاذ برائے آزادی فلسطین نے فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ رام اللہ اور تل ابیب کے درمیان نام نہاد مذاکرات کی بحالی سے فلسطینی عوام کو مزید مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق عوامی محاذ کے سیاسی شعبے کے سینیئر رکن کائد الغول نے غزہ کی پٹی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی ریاست کے ساتھ نام نہاد امن مذاکرات کو مزید وسعت دینے کا کوئی جواز نہیں۔ ہم جتنے بھی مذاکرات کریں گے اسرائیل ہمیں تنہا کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق دبانے کی کوشش کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی صہیونی ریاست اور امریکی دباؤ کا شکار ہے۔ اتھارٹی مذاکرات کو وسعت دینے سے قبل ہمیں بتائے کہ نو ماہ میں کیا حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی صہیونی ریاست اور امریکیوں کے دباؤ اور لالچ میں آنے کے بجائے وطن کی آزادی کے لیے مسلح جدو جہد اور قومی وحدت کی طرف واپس لوٹے۔
کائد الغول کا کہنا تھا کہ پیر کے روز بھی فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیلی نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں، لیکن وہ بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوگئے تھے۔ اس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ مذاکرات کا عمل معطل ہوچکا ہے لیکن فلسطینی اتھارٹی اب بھی امریکا اور اسرائیل کے دباؤ میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے 104 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا وعدہ کرنےکے ساتھ ساتھ یہودی آباد کاری مکمل طور پر روکنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی نے مذاکرات کے دوران عالمی اداروں سے رجوع نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن فلسطینی اتھارٹی نے 15 عالمی اداروں میں شمولیت کی درخواست دی ہے۔ اسرائیل کی یہودی توسیع پسندی جاری ہے اور وعدے کے مطابق فلسطینیوں کی ایک چوتھائی تعداد کا رہا کیا جانا باقی ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان نو مہینے سے جاری مذاکرات کے مشق ناکامی سے دوچار ہوئی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
