فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ کے مشیر برائے سیاسی امور اور ممتاز فلسطینی سیاست دان ڈاکٹر یوسف رزقہ نے اردن کی میزبانی میں جاری فلسطین۔ اسرائیل مذاکرات کی ناکامی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ صہیونی دشمن کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہو ہی نہیں ہو سکتے، فلسطینی اتھارٹی کے لیے اب بھی وقت ہے کہ وہ دشمن سے بے مقصد مذاکرات کا ناٹک چھوڑ دے۔
مرکزاطلاعات فلسطین سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر رزقہ کا کہنا تھا کہ عمان میں اسرائیل کےساتھ مذاکرات کی ناکامی فلسطینیوں کے مابین مفاہمت کا عمل آگے بڑھانے میں مددگارثابت ہو گی اور اسرائیل سے مذاکرات کی رٹ لگانے والوں کو اندازہ ہو گا کہ قوم کے مسائل کا حل صہیونی ریاست کے ساتھ مذاکرات میں نہیں بلکہ فلسطینیوں کے مابین مفاہمت میں مضمر ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر یوسف رزقہ کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کو اسرائیل کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی کے نام نہاد مذاکرات سے کوئی خیر کی توقع پہلے بھی نہ تھی، اب فلسطینی انتظامیہ کے لیے ایک اور موقع ہے کہ وہ صہیونی دشمن کےساتھ بے مقصد بات چیت کے تسلسل کے بجائے قوم کی طرف لوٹیں۔
فلسطینی سیاست دان کا کہنا تھا کہ اس وقت جلد بازی اسرائیل کی طرف دوڑنے میں نہیں بلکہ فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت کے لیے کرنی چاہیے۔ گذشتہ ماہ فلسطینی صدر محمود عباس اور حماس کے سیاسی شعبے کے لیڈر خالد مشعل کے درمیان مصرکی نگرانی میں ہونے والے مصالحتی معاہدے اور اس دوران کیے گئے فیصلوں کوعملی شکل دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر محمود عباس کے فیصلوں اور ان پر عملی اقدامات کے درمیان ایک بڑا خلاء موجود ہے۔ اس خلاء کو پُر کرنے کے لیے ناگزیرہے کہ قاہرہ میں طے پائے تمام معاہدوں پرعملدرآمد کیا جائے۔

