خیال رہے کہ پچھلے ہفتے بھی رام اللہ میں صدر محمود عباس کے زیرصدارت اجلاس میں اسرائیل سے سیکیورٹی تعاون ختم کرنے کا اعلان کیاگیا تھا تاہم اس پرعمل درآمد نہیں ہوسکا ہے۔
فلسطینی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے صائب عریقات کا کہنا تھا کہ تنظیم آزادی فلسطین کا فیصلہ دو ٹوک اور واضح ہے جس کی مزید وضاحت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی تعاون روکنے کے سوا اب ہمارے پاس کوئی اور رواستہ نہیں بچا ہے۔ ہمیں اسرائیل سے سیکیورٹی تعاون ختم کرنے کے ساتھ ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات پر بھی نظرثانی کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے محصولات روک کرفلسطینیوں کے حقوق پر ایک نیا ڈاکہ ڈالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر محمود عباس یورپی اور عرب ممالک کے دورے کے بعد جیسے ہی وطن واپس پہنچے تو پی ایل او کا ایک نیا اجلاس منعقد کرکے اسرائیل سے سیکیورٹی تعاون ختم کرنے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
