اسیران اور انسانی حقوق اسٹڈی سینٹر ‘احرار’ کے مطابق اسرائیلی سپریم کورٹ نے مقبوضہ فلسطین سے تعلق رکھنے والی 39 سالہ خاتون اسیرہ لینا الجربونی کی اپیل سننے سے انکار کر دیا ہے۔
‘احرار’ سینٹر سے وابستہ ذرائع نے بتایا کہ لینا الجربونی کے وکلاء نے ماتحت عدالت میں اس کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی تھی کہ وہ الجربونی کو سنائی گئی 17 سال قید میں کمی کرے لیکن عدالت نے اپنا فیصلہ برقرار رکھا۔ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی لیکن عدالت سے قابل سماعت نہ جان کر اپیل مسترد کر دی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ سپریم کورٹ عمومی حالات میں ایسے فیصلوں کے خلاف اپیلیں مسترد کر دیتی ہے۔ بالخصوص اگر ایسے مقدمے مقبوضہ فلسطین سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کے بارے میں ہوں تو صہیونی عدلیہ کا نسلی امتیاز واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
‘احرار’ سینٹر کے ڈائریکٹر فواد الخفش نے مریض خاتون قیدی کی اپیل مسترد ہونے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی پالیسی کا مقصد قیدیوں اور بالخصوص بیمار اسیران کی تکالیف میں اضافہ کرنا ہے۔
یاد رہے کہ عکا ساحل کی نواحی میونسپلٹی ‘عرابہ النطواف’ سے تعلق رکھنے والی قیدی لینا الجربونی ایک ماہ کڑی تفتیش سے گزری ہیں، جس کے بعد انہیں 17 برس قید کی سزا سنائی گئی۔ لینا ھشارون جیل میں مستقل درد شقیقہ میں مبتلا ہیں۔ ان کے پیروں میں مسلسل سوجن ہے لیکن اس کے باوجود اسرائیلی حکام انہیں ضروری علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے سے انکاری ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
