اسرائیلی حکومت نے فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام رام اللہ میں قائم حکومت کو مالی بحران سے بچانے کے لیے سہارا فراہم کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں۔
صہیونی عبرانی اخبار”ہارٹز” نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے فلسطینی اتھارٹی کے مالیاتی اور معاشی بحران پر قابو پانے میں مدد فراہم کرنے کے لیے اقدامات شروع کردیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کے معاشی بحران میں مدد اس لیے فراہم کرنا چاہتا ہے کیونکہ معاشی بحران کےخطرناک ہونے کی صورت میں مغربی کنارے میں صدر محمود عباس کے زیر کمانڈ سیکیورٹی فورسز کا صہیونی فوج کے ساتھ تعاون متاثر ہو سکتا ہے۔
اخبار لکھتا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے معاشی بحران کے شدت اختیار کرنے کی خبروں کے منظرعام پرآنے کے بعد صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے "بنک آف اسرائیل” کے چیئرمین اسٹانٹلے فیشر سے مشاورت کی ہے۔ دونوں رہ نماؤں کے درمیان ہونے والی مشاورت کے نتیجے میں یہ طے پایا کہ وہ عالمی بنک سے فلسطینی اتھارٹی کے لیے ایک ارب ڈالر کے ہنگامی قرض کے لیے درخواست دائر کریں گے۔ اس پرصہیونی حکام نے عالمی بنک سے رجوع کیا تاہم عالمی بنک کی طرفف سے کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا۔ اخبار لکھتا ہے کہ اسرائیلی حکومت فلسطین میں صدر محمود عباس کے زیرانتظام حکومت کو معاشی بحران سے بچانے کے لیے مختلف دیگر ذرائع پر بھی غور کر رہی ہے۔ اس میں ایک تجویز عالمی امدادی ممالک سے فلسطینیوں کے لیے ہنگامی امداد کی فراہمی کی تجویز بھی شامل ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی گذشتہ کئی سال سے داخلی سطح پر کرپشن اور بدعنوانی کے تھپیڑے کھا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے اتھارٹی گذشتہ برس بھی سنگین مالی بحران کا شکار رہی اور اس سال بھی اس کے مالیاتی ٹائکون یہ کہتے ہیں کہ اتھارٹی کو پیش آئند ایام میں سخت نوعیت کی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
