جرمنی میں کیے گئے ایک حالیہ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ جرمنی میں اسرائیل کی مخالفت میں اضافہ ہوا ہے۔ جرمن مجلے ’’شیٹرن‘‘ میں فورسا انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے کیے گئے سروے کے نتائج کے مطابق جرمنوں کی اکثریت نے اسرائیل کو ایک جارحیت پسند ملک قرار دے دیا ہے۔
سروے میں جرمن عوام نے ہمیشہ اسرائیل کی مدد کرنے والی اپنی حکومت کے خلاف فیصلہ دے دیا۔ یہ سروے کے ایک موقع پر کیا گیا ہے جب کچھ عرصے میں جرمن صدر جوکم گاک نام نہاد اسرائیلی ریاست اور مغربی کنارے کا دورہ کرنے والے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سروے میں شریک 59 فیصد رائے دہندگان نے اسرائیل کو جارح ملک قرار دیا۔ یہ تناسب جنوری سنہ 2009ء کے سروے میں ایسی ہی رائے دینے والوں سے دس فیصد زیادہ ہے۔ 60 فیصد افراد کا خیال تھا کہ جرمنی کو اسرائیل کے حق میں خصوصی اقدامات نہیں کرنے چاہیں۔
سروے کے 70 فیصد شرکاء کا کہنا تھا کہ اسرائیل صرف اپنے مفادات کے حصول کی کوشش کرتا ہے جبکہ دوسرے ملکوں کا مفادات پس پشت ڈال دیتا ہے۔ اس خیال کے حامل لوگوں کی تعداد میں بھی تین سال قبل کی نسبت گیارہ فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔
یہ سروے جرمنی میں ایک معروف شاعر کی اس نظم کے بعد اسرائیل کے متعلق چھڑنے والی بحث کے بعد کیا گیا۔ جرمنی کے اس شاعر نے اپنی نظم ’’عالمی رواج سے ملیے‘‘ میں اسرائیل اور مغربی کنارے میں اس کی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ چوراسی سالہ گنٹر گراس نے اپریل کے آغاز میں جرمن پریس میں ایک نظم لکھی تھی جس میں اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے اس پر ساری دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہونے کا الزام لگایا تھا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

