قابض اسرائیلی حکام نے سرطان جیسے موذی مرض میں مبتلا زیر حراست 64 فلسطینی قیدی میسرہ ابو حمدیہ کو رہا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ میڈیکل ٹیسٹوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ میسرہ کی بیماری خطرناک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں قیدی کی جان بھی جا سکتی ہے۔
فلسطینی اسیران انجمن نے ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ ابو حمدیہ کو ریمنڈ جیل انتظامیہ نے عساف حروفی ہسپتال سے جیل میں واپس بھیج دیا ہےحالانکہ ابوحمدیہ کی میڈیکل رپورٹس میں ان کے سرطان کے مرض میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اسیران انجمن نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ میسرہ کو انتہائی تشویشناک حالت کے باوجود علاج کی سہولت فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔
سوسائٹی نے عمرقید کاٹنے والے ابوحمدیہ کے حوالے سے بتایا کہ ان کو جیل کی انتظامیہ ایک فوجی گاڑی میں ڈال کر ہسپتال لے کر گئی تھی جس کی وجہ سے ان کی تکلیف مزید بڑھ گئی۔
ابو حمدیہ نے بتایا کہ اگر ان کو ایمبولینس فراہم نہ کی گئی تو وہ کسی میڈیکل چیک اپ کے لئے نہیں جائیں گے۔ انجمن کا کہنا ہے کہ ابو حمدیہ کو کچھ ہونے کی صورت میں اس کی موت کی ذمہ داری اسرائیلی انتظامیہ پر عاید ہو گی۔ انجمن نے قریب المرگ قیدی کی فوری رہائی کا پرزور مطالبہ دہرایا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
