مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی کنیسٹ میں آج جمعرات کو اس متنازع قانون پر دوسری اور تیسری رائے شماری ہوئی۔ ایوان میں موجود 46 ارکان نے متنازع قانون کی حمایت جب کہ 40 نے اس کی مخالفت کی۔
اس قانون کے تحت اسرائیل کے سیکیورٹی اداروں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ اگر کسی بھوک ہڑتالی فلسطینی کی بھوک ہڑتال اتنی طویل ہوجائے اور اس کی جان کو خطرہ ہوتو حکام اسے جبرا خوراک دینے کے مجاز ہوں گے۔
مذکورہ مسودہ قانون اسرائیل کے داخلی سلامتی کے وزیر گیلاد ارڈان نے پیش کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض نہایت خطرناک نوعیت کے فلسطینی قیدی رہائی کی خاطر بھوک ہڑتال جیسے اقدام کا سہارا لیتے ہیں۔ طویل بھوک ہڑتال ان کی خود کشی کا باعث بن سکتی ہے جو اسرائیل کے لیے نہایت خطرناک ہے۔
خیال رہے کہ متنازع قانون پر چند روز قبل بحث شروع ہوئی تھی کنیسٹ کے اجلاس کی تعطیلات کے بعد گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں دوبارہ اس پربحث کی گئی۔
اسرائیلی کنیسٹ کے عرب رکن ڈاکٹر باسل عطاس نے فلسطینی بھوک ہڑتالی قیدیوں کو جبری خوراک دینے کے قانون کے خلاف 60 تحفظات ظاہر کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ قانون پر رائے شماری موخر کرنے کے لیے تمام ممکنہ ذرائع استعمال کریں گے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے صہیونی کنیسٹ کے فیصلے کی شدید مذمت کرتےہوئے اسے شہری آزادیوں اور قیدیوں کے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق گروپوں کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو جبری خوراک دینا اسرائیلی ریاست کے پیشانی پر ایک بدنما دھبا اور جمہوریت کے دعوے داروں کے لیے ایک المیہ ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
