(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے منگل کے روز فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں دو فدائی حملوں کی کوشش ناکام بناتے ہوئے حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں دو فلسطینی بچیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس اور بارڈر حکام نے بیت المقدس میں باب العامود کے مقام سے ایک 16 سالہ لڑکی کو حراست میں لیا ہے۔ وہ چاقو کے ذریعے یہودی فوجیوں پر حملے کی منصوبہ بندی کررہی تھی۔پولیس کا کہنا ہے کہ فلسطینی لڑکی کو باب العامود کے مقام پر ایک چوکی پر تلاشی کےلیے روکا گیا۔ تلاشی کے دوران اس کے سامان میں سے ایک چاقو برآمد ہوا ہے جس کے بعد اس سے مزید تفتیش کے لیے حراستی مرکز منتقل کردیا گیاہے۔
اس واقعے کے کچھ ہی دیر بعد شمالی الخلیل میں حلحول قصبے کی ایک فلسطینی لڑکی کو ‘‘کرمی زور’’ نامی یہودی کالونی کےقریب سے چاقو سے مسلح حالت میں گرفتار کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق دونوں فلسطینی بچیوں کو اسکول جاتے ہوئے حراست میں لیا گیا۔ ان کے پاس سے چاقو یا ایسے کسی خطرناک دستی ہتھیار کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔
