مسجد اقصٰی میں ایک فلسطینی خاتون پر اسرائیلی پولیس اہلکار کے حملے اور اس کے نقاب کو چھیننے کی کوشش کرنے پر نمازیوں اور اسرائیلی پولیس میں ہاتھا پائی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
عینی شاہدین نے مرکز اطلاعات فلسطین کے نمائندے کو بتایا کہ اسرائیلی پولیس نے مسجد میں پچاس سال سے کم عمر نمازیوں کے مسجد میں داخلے پر پابندی لگا دی جبکہ یہودی آبادکاروں کو جوق در جوق مسجد میں داخلے کی اجازت دی جارہی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ مسجد اقصٰی دروازوں میں ایک دروازے باب النادر پر پیش آیا اور اسرائیلی پولیس کی خاتون اہلکار نے فلسطینی خاتون پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں ہاتھا پائی کا واقعہ پیش آیا۔
اسرائیلی قابض حکام عام طور پر مسلمان نمازیوں کو گیٹ پر شناخت کروانے کے بعد مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دے دیتے ہیں مگر جب کبھی یہودی تہواروں کا موقع آتا ہے تو ان دنوں میں "سیکیورٹی” وجوہات کی وجہ سے فلسطینیوں پر پابندیاں عائد کردی جاتی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
