مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ میں قانون پیش کرنے والے رکن اسمبلی "شطیرن” کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے لیے نیا قانون وضع کرنے اور ایک اسرائیلی فوجی کے بدلے ایک فلسطینی کی رہائی کی تجویز اس لیے دی جا رہی ہے تاکہ کوئی حکومت اور سیاسی جماعت کسی فلسطینی شدت پسند تنظیم کے ہاتھوں مزید بلیک میل نہ ہو، کیونکہ ماضی میں اسرائیلی حکومت اپنے ایک فوجی کی رہائی کے بدلے دشمن کے سیکڑوں نہایت خطرناک قیدیوں کو رہا کرنے پر مجبور دکھائی دیتی رہی ہیں۔
ان کا اشارہ سنہ 2012ء میں اسلامی تحریک مزحمت”حماس” اور اسرائیل کے درمیان طے پائی قیدیوں کے تبادلے کی ایک ڈیل کی جانب تھا۔ اس ڈیل میں اسرائیل کے ایک فوج گیلاد شالیت کے بدلے میں حماس نے اپنے ایک ہزار پچاس قیدی چھڑا لیے تھے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صہیونی رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ قیدیوں کے تبادلے کے لیے نئے مسودہ قانون کی منظوری سے فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے اسرائیلی فوجیوں کے اغواء کی کارروائیوں کی بھی حوصلہ شکنی ہو گی، کیونکہ انہیں معلوم ہوگا کہ ایک فوجی کے اغواء کے بد میں اب وہ سیکڑوں نہیں صرف ایک فلسطینی قیدی ہی کو چھڑا سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیلی قانون کی رو سے ایسے قیدی جو اسرائیلیوں کے قتل میں ملوث نہیں۔ قیدیوں کے تبادلے کی صورت میں ایسے دس فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ماضی میں ایسے واقعات بھی دیکھنے کو ملے ہیں کہ اسرائیلی حکومتیں اپنے ایک فوجی کو بچانے کے لیے درجنوں یہودیوں کوموت کے گھاٹ اتارنے والے فلسطینی اسیران کو بھی رہا کیا گیا۔
