• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

اسرائیلی پارلیمان میں ’’القدس یہودی ریاست کا دارالخلافہ‘‘ بل داخل

جمعرات 01-12-2011
in فلسطین
0
plf parliment
0
SHARES
3
VIEWS

plf parliment

فلسطینی حلقوں کی جانب سے القدس کو فلسطین کا دارالخلافہ قرار دینے کی تاکید کے بعد اسرائیلی پارلیمان میں ایک بل داخل کروایا گیا ہے جس میں ایک بار پھر تاکید کی گئی ہے کہ القدس یہودی ریاست کا دارالخلافہ ہے اور مستقبل میں فلسطین سے کسی بھی مذاکرات کے دوران اس سے دستبردار نہیں ہوا جائے گا۔

 

بل کنیسٹ میں نیشنل الائنس سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان ارییہ ایلڈاڈ اور جیوش ہوم کے زیبلن اورلیو کی جانب سے داخل کروایا گیا۔ اس موقع پر اورلیو کا کہنا تھا کہ القدس قیامت تک کسی دوسری قوم کا دارالخلافہ نہیں بن سکتا۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ کسی غیر کو اس شہر کے معاملات پر بات کرنے کی جرات نہیں دی جا سکتی۔
قبل ازیں فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اس بات کی تاکید کی گئی تھی کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات اسی صورت شروع ہو سکتے ہیں جب القدس کے دارالخلافہ پر مشتمل فلسطینی آزاد اور خود مختار ریاست کا اقرار کیا جائے۔
اسرائیلی پارلیمان نے بدھ کے روز اس بل پر ووٹنگ کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی پارلیمان میں اس بل کے بعد فلسطینی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
قبل ازیں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو اس بات کا اقرار کرچکے ہیں کہ ان کی جانب سے مسجد اقصی کے مراکشی دروازے کے پل کے انہدام کو ملتوی کیا جانا فلسطینی حلقوں میں اشتعال کے خوف کے سبب تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے پیر کے روز امور خارجہ اور سکیورٹی کی اسرائیلی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں مراکشی دروازے کے پل کے انہدام کو موخر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کی جانب سے یہ فیصلہ عرب خطے کے نازک حالات کے تناظر میں بھی کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ مصر اور اردن میں اسرائیل مخالف مظاہروں کے بعد پیدا ہونے والے دباؤ کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم کو مجبورا قبلہ اول کے مراکشی دروازے کو نقصان پہنچانے سے گریز کرنا پڑا ہے۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.