اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمان) نے مقبوضہ بیت المقدس میں ایک مسجد کو شہید کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔ دوران بحث متعدد صہیونی اراکین پارلیمان کا کہنا ہے کہ یہ مسجد بغیر اجازت لیے تعمیر کی گئی ہے لہذا اس کو گرا دینا چاہیے۔
عبرانی ریڈیو کے صبح کے ایک نشریے کے مطابق کنیسٹ کی داخلہ امور کی کمیٹی نے القدس کے علاقے جبل الزیتون کے علاقے کی ایک اسلامی مسجد کی بغیر اجازت تعمیر پر بحث کی ہے جس میں اس مسجد کو شہید کرنے پر غور کیا گیا۔
ادھر ریڈیو نے بتایا کہ یہ کمیٹی عنقریب جیل الزیتون میں یہودی قبروں پر حملوں کے معاملے پر بھی بحث کریگی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
