مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی داخلی سلامتی کے وزیر گیلاد اردان نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسجد اقصیٰ کی حفاظت کے لیے سرگرم عرب گروپ "المرابطین” اور "المرابطات” میں شامل لوگ تخریب کار ہیں جو بدامنی پھیلانے کے ساتھ ساتھ "جبل ہیکل”[مسجد اقصیٰ] میں آنے والے یہودیوں پر حملوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔ انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں خوف زدہ کرتے ہیں۔ اس لیے ان گروپوں پر پابندی عاید کی جائے۔
صہیونی داخلی سلامتی کے وزیر کا کہنا تھا کہ انہوں نے فلسطینی شہریوں کی مسجد اقصیٰ میں حفاظتی سرگرمیوں پرپابندی کے لیے اسرائیلی پولیس، انٹیلی جنس حکام، پراسیکیوٹر جنرل اور عدالتی حکام سے بھی صلاح مشورہ کیا ہے۔ میں ان گروپوں کو "جبل ہیکل” میں تشدد پھیلانے اور تخریب کاری کی سرگرمیوں میں ملوث سمجھتا ہوں کیونکہ ان لوگوں کی موجودگی سے یہودیوں کی وہاں پرآزادانہ عبادت کے لیے آمد ورفت متاثر ہو رہی ہے۔
صہیونی وزیرکا کہنا تھا کہ جبل ہیکل میں عبادت اور زیارت کے لیے آنے والے یہودیوں کے خلاف پرتشدد ہتھکنڈے استعمال کرنے والے فلسطینیوں پر پابندی عاید کی جانی چاہیے۔ یہ کام وزیردفاع کا ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ جبل ھیکل میں سرگرم فلسطینی گروپوں کی سرگرمیوں پر پابندی عاید کریں۔
خیال رہے کہ بیت المقدس کے شہریوں نے مسجد اقصیٰ پر یہودیوں کی یلغار روکنے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دینا شروع کی ہیں۔ خواتین اور فلسطینی مردوں نے الگ الگ گروپ تشکیل دیے ہیں۔ مردوں کی رضاکار ٹیم” المرابطین” اور خواتین محافظوں کی ٹیم کو”المرابطات” کا نام دیا گیا ہے۔ یہ فلسطینی صبح و شام قبلہ اول حفاظتی اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں پرعبادات کے وقت موجود رہتے ہیں جس پر یہودیوں اور صہیونی حکام کو سخت تکلیف ہے۔ وہ مختلف حیلوں اور بہانوں سے فلسطینیوں کی حفاظتی مساعی پرپابندی عاید کر کے انتہا پسند یہودیوں کے لیے تمام راستے کھلے کرنا چاہتے ہیں۔
