اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے خلاف سخت کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج اور یہودی آباد کاروں کو غزہ کی پٹی سے فلسطینی مزاحمت کاروں سے سنجیدہ خطرات لاحق ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے فوج کو ہر وقت تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب میں کیا۔
صہیونی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فلسطینی مزاحمت کاروں سے نمٹنے کے لیے بارے میں ہماری پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ ہماری اب بھی وہی پالیسی ہے جو ماضی میں تھی۔ وہ یہ کہ ہم مزاحمت کاروں سے قوت سے نمٹنا چاہتے ہیں۔ اس وقت فلسطینی جنگجوؤں کی جانب سے یہودی کالونیوں کو راکٹوں کے حملوں کا سنگین اور سنجیدہ خطرہ لاحق ہے۔ ہم اس پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ ضرورت پڑنے پر غزہ کی پٹی میں کسی بڑے آپریشن سے گریز نہیں کریں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتین یاھو کی جانب سے غزہ کی پٹی میں جنگ مسلط کرنے کی یہ تازہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری جانب مصر کی کوششوں سے مزاحمت کاروں اور صہیونی فوج کے درمیان ایک زبانی فائر بندی بھی ہوئی ہے۔ فائر بندی سے قبل چھ روزہ جارحیت میں صہیونی فوج نے چار بچوں سمیت سولہ فلسطینیوں کو شہید اور ستر سے زائد کو زخمی کر دیا تھا۔ فائر بندی کے اعلان کے باوجود صہیونی جارحیت بھی جاری ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
