• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

اسرائیلی وجود بیت المقدس کے اسلامی آثار قدیمہ کے لیے سنگین خطرہ ہے:یونیسکو

بدھ 08-07-2015
in فلسطین
0
plf danger-to-archealogy
0
SHARES
0
VIEWS

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے وسائنس و ثقافت”یونیسکو” نے فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس میں اسلامی آثار قدیمہ کے خلاف جاری اسرائیلی سازشوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی ریاست کاوجود بیت المقدس کی اسلامہ تہذیب وثقافت اور آثار قدیمہ کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق منگل کے روز "یونیسکو” کی جانب سے بیت المقدس میں اسلامی آثار قدیمہ کےتحفظ کے حوالے سے ایک قرارداد منظور کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بیت المقدس میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے جاری کھدائیوں کے ذریعے شہر کی اسلامی آثارقدیمہ کو بری طرح نقصان پہنچ رہا ہے۔ اگرکھدائیوں کا یہ غیرآئینی سلسلہ جاری رہتا ہے تو اس کے نتیجے میں مسجد اقصیٰ کے قرب وجوارمیں تمام اسلامی آثار قدیمہ صفحہ ہستی سے مٹنے کا اندیشہ ہے۔

قرارداد میں عالمی ادارے نے اسرائیل سے بیت المقدس میں جاری کھدائیاں اور توڑپھوڑ مکمل طورپر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے بیت المقدس میں جہاں ایک طرف کھدائیوں کی آڑ میں بڑے پیمانے پر فلسطینی تہذیبی علامات کو مٹانے کی کوشش کی ہے وہیں نام نہاد انفراسٹرکچر، سڑکوں، پلوں اور ریلوے لائنوں کے نام پربھی شہر کا نقشہ بدلنے کی کوشش کی ہے۔حال ہی میں اسرائیل نے بیت المقدس میں قائم یہودی کالونیوں کو ایک نئی ٹرین کےذریعے مربوط بنانے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ تمام منصوبے بیت المقدس میں اسلامی آثارقدیمہ کی تباہی کا موجب بن رہے ہیں۔ اس لیے یونیسکو اسرائیل سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بیت المقدس کی اصلی حالت کو قائم رکھنے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ تعاون کرے۔

یونیسکو نے اسرائیل سے اردنی وزارت اوقاف کے ماہرین کے ساتھ تعاون کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یونیسکو کے قانون کے تحت اردنی ماہرین اور بیت المقدس کے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے اردنی حکام کو بیت المقدس تک رسائی دینا اسرائیل کی بین الاقوامی قوانین کی رو سے اہم ذمہ داری ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے "یونیسکو” کے بیان پر حکومتی رد عمل بھی جاری کیا ہے۔ عبرانی ٹی وی 7 کی رپورٹ کےمطابق حکومت نے یونیسکوکے بیان پرسخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے "منافقانہ ” اور غیرمنطقی قرارد یا ہے۔

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر ڈورے گولڈ کاکہنا ہے کہ اسرائیل بیت المقدس میں کسی قسم کی تہذیبی جنگ مسلط نہیں کررہا ہے بلکہ تمام مظاہرکے مقدس مقامات کا تحفظ کررہا ہے۔ یونیسکو کی جانب سے اسرائیل پراسلامی آثارقدیمہ کو مٹانے الزام بھونڈا مذاق، منافقت اور غیر منطقی ہے۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.