(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ فلسطین میں یوم اسیران کے موقع پر اسرائیلی جیلوں میں قید تین ہزار فلسطینیوں نے ایک روز کے لیے بھوک ہڑتال کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسیران اسٹڈی سینٹر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی کئی جیلوں میں قید 3 ہزار فلسطینی اسیران نے ’’نفحہ‘‘ جیل میں قیدیوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف 17 اپریل بروز اتوار کو تین اوقات کے کھانے کی بھوک ہڑتال کرتے ہوئے اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ کھانا واپس کردیا۔انسانی حقوق کے مندوب ریاض الاشقر نے بتایا کہ اتوار کے روز اسرائیل کی چار بڑی جیلوں نفحہ، ریمون، ایچل اور جزیرہ نما النقب کی جیل میں 40 فی صد قیدیوں نے نفحہ قید خانے میں اسیران پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف ایک روزہ بھوک ہڑتال کی۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز نفحہ نامی جیل میں اسرائیلی جیلروں اور سیکیورٹی فورسز نے قیدیوں پر دھاوا بول دیا تھا۔ قیدیوں کے کمروں اور ان کے سامان کی تلاشی کی آڑ میں اسیران کو زدو کوب کیا گیا اور ان پر وحشیانہ تشدد کیا جس کے نتیجے میں کم سے کم 48 قیدی زخمی ہوگئے تھے۔
صہیونی جیلروں کی جانب سے اسیران کو منتشر کرنے کے لیے ان پرزہریلی آنس گیس کی بھی شیلنگ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق نفحہ جیل کے وارڈ 11 اور 14 میں پابند سلاسل قیدی سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جن میں سے چار قیدیوں کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔
