اسرائیلی فوج کے جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی کے فضاؤں میں پروازیں کرکے علاقے کی کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ کردیا ہے۔ غزہ کے فیلڈ مشاہدہ کار کا کہنا ہے کہ ایف سولہ طرز کے جنگی طیاروں نے اتوار کے روز علی الصبح اڑانیں بھری جس سے غزہ کے سرحدی علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
صہیونی لڑاکا طیاروں نے اتوار کے روز علی الصبح غزہ کے دو مقامات پر بمباری بھی کی، تاہم ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ذرائع کے مطابق جن علاقوں پر بمباری کی گئی ان میں خان یونس کے ایک تربیتی مرکز اور رفح کے علاقے شامل ہیں۔
اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہفتے کی شام غزہ سے فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے ایک راکٹ داغا گیا تھا، یہ راکٹ 1948ء کے مقبوضہ فلسطین (نام نہاد اسرائیل) کے علاقے نقب میں آکر گرا جس کے جواب میں اتوار کی صبح اسرائیلی فضائیہ نے غزہ میں مزاحمت کاروں کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں اسرائیلی فضائیہ نے آٹھ روز تک غزہ کے مختلف علاقوں پر بمباری کرکے دو سو سے کچھ کم افراد کو شہید کردیا تھا، جس کے بعد ہونے حماس اور اسرائیل کے مابین سیز فائر معاہدہ ہوا تھا، مگر اسرائیل کی جانب سے مسلسل اس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ہے۔ آئے روز کی انہیں خلاف ورزیوں کے جواب میں فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے اکا دکا راکٹ حملے کیے جائیں تو اس پر صہیونی فضائیہ کی جانب سے ایسا ہی ردعمل دیکھنے میں آتا ہے جس کا مظاہرہ آج اتوار کے روز کیا گیا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
