فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہرالخلیل میں دو یہودی آباد کاروں پر خنجر کے وار میں ملوث فلسطینی نوجوانوں کی گرفتاری کے لیے اسرائیلی فوج نے تلاشی کا سلسلہ شروع کیا تو فلسطینی شہری صہیونی فوج کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔
عینی شاہدین نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ الخلیل کے مختلف علاقوں میں صہیونی فوجی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے فلسطینیوں کے گھروں میں داخل ہوئے اور خوتین اور بچوں کو زدو کوب کرنے کے بعد گھروں میں موجود مردوں کو مارتے پیٹتے۔ صہیونی فوجیوں کے اس غیرانسانی سلوک کے خلاف فلسطینی مشتعل ہوگئے اور انہوں نے گھروں سے نکل کراسرائیلی فوج کے خلاف جلوس نکالا۔
اسرائیلی فوجیوں نے احتجاجی مظاہرہ کرنے والے فلسطینیوں پر اشک آور گیس کی شیلنگ کی اور ان پر ربڑ کے کور میں لپٹی دھاتی گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
ایک عینی شاھد نے بتایا کہ صہیونی فوج کی ایک پارٹی فلسطینی نوجوان ماھر الھشلمون کے ’’الحاروز‘‘ کالونی میں داخل ہوئے اور گھر کی تلاشی لینے کے بعد اہل خانہ کی قطارمیں کھڑے کرکے نہایت توہین آمیز انداز میں شناخت پریڈ کرائی گئی۔
اس پر فلسطینی شہری مشتعل ہوگئے اور انہوں نے صہیونی فوجیوں پر سنگ باری کی اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگائے۔ جواب میں صہیونی فوجیوں نے بھی فلسطینی مظاہرین پر آنسوگیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں دسیوں افراد دم گھٹنے سے متاثر ہوئے ہیں۔ صہیونی فوجیوں نے سنگ باری کرنے والے ایک فلسطینی لڑکے کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی نوجوان الھشلمون نے سوموار کے روز شمالی الخلیل میں تین یہودی آباد کاروں پر تیز دھارے سے حملہ کیا تھا جن میں سے ایک یہودی آباد کار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
