اسرائیلی فوج نے فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ سیزفائر کے معاہدے کے باوجود غزہ پر دوبارہ بمباری کی ہے تاہم ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہو سکی۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کے مطابق اسرائیل کے ایف سولہ جنگی طیاروں نے جمعرات کوعلی الصباح غزہ کے جنوب مشرق میں زیتون کالونی پر بمباری میں دو الگ الگ مقامات پر بمباری کی۔ ایک مقام پر میزائل گرنے سے متعدد مکانات زمین بوس ہو گئے تاہم ایک دوسرے حملے میں میزائل کھلے کھیتوں میں گرے ہیں جس سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
نامہ نگار کے مطابق قابض صہیونی فوج نے دوسرا حملہ غزہ کے جنوب میں خان یونس میں کیا گیا۔ یہاں میزائل کھلی زمینوں پر گرے تاہم کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاعات نہیں مل سکیں۔ عینی شاہدین کےمطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب غزہ کی فضاء میں جنگی طیاروں کی نچلی پروازوں کا سلسلہ جاری رہا جس سے شہریوں میں سخت خوف ہراس کی فضاء پائی جاتی ہے۔
بدھ کی شام کو بھی اسرائیلی فوج نے غزہ کے مختلف علاقوں میں تین فضائی حملے کیے تھے،ان حملوں میں متعدد مکانات کو نقصان پہنچا ہے تاہم کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی پر تازہ بمباری ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اسرائیل اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے درمیان مصر کی ثالثی کے تحت فائر بندی کا ایک عارضی معاہدہ بھی ہو چکا ہے۔ اسرائیلی فوج اس کے باوجود حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

