اسرائیلی پارلیمان کے عرب رکن محمد برکہ کا کہنا ہے کہ کنیسٹ کی جانب سے اسرائیلی فوج کی جارحیتوں میں ہونے والے نقصان کی تلافی کے لیے فلسطینیوں کو عدالت میں مقدمات
دائر کرنے سے روکنے کے قانون کی منظوری سے ایک بار پھر کنیسٹ کا انتہا پسند چہرہ اور صہیونی منصوبوں کی گھٹیا پن دنیا کے سامنے آ گیا ہے۔
رکن پارلیمان محمد برکہ نے جمعے کے روز اپنے بیان میں کہا کہ یہ قانون دراصل اسرائیلی فوج کے غارت گریوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے ہے۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ وہ ہر طرح کے جرائم بغیر کسی عدالتی ٹرائل کے کرتا رہے۔
محمد برکہ نے خبردار کیا کہ اس نسل پرستانہ قانون کی منظوری اسرائیلی حکومت اور فوج کی جانب سے فلسطینیوں پر مظالم کی نئی لہر کا پیش خیمہ بن جائے گی۔ انہوں نے کہا یہ قانون اسرائیلی پارلیمان کی اس ابتر صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے جس میں پارلیمان روز بروز دھنستی جا رہی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
