فلسطین حقوق صحافت ڈویلپمنٹ سینٹر "مدیٰ” کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے منظم حملوں سے ایسے محسوس ہو رہا ہے کہ دشمن فوج صحافیوں کو دانستہ طور پر کچلنے اور میڈیا کا گلہ گھونٹنے کی گھناؤنی سازش کی مرتکب ہو رہی ہے۔ صحافیوں کو دانستہ طور پر حملوں اور تشدد کا سامنا ہے۔ انہیں اغواء کیا جاتا ہے اور کئی کئی ہفتوں تک انہیں حراستی مراکز میں رکھ کر اذیتوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کے حقوق کے آواز اٹھانے والے دانشوروں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے والے اہل صحافت کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ بیت المقدس اور مقبوضہ مغربی کنارا آزادی صحافت کےحوالے سے خطرناک مقامات بن چکے ہیں، جہاں اسرائیلی فوج کی جانب سے صحافیوں پر آئے روز حملے ہو رہے ہیں۔ صحافیوں کو حق اور سچ کی آواز اٹھانے اور صہیونی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کرنے والوں کے گھر تک مسمار کیے جاتے ہیں۔ اہل خانہ کو زدو کوب کیا جاتا ہے تاکہ صحافی حضرات اپنی پیشہ ورانہ خدمات کی انجام دہی سے باز آجائیں۔
