قابض اسرائیلی فوج نے یروشلم کے مشرقی گاوں باب الشمس کے نئے تعمیر شدہ مضافات احفاد یونس پر دھاوا بول دیا اور 50 سے زیادہ انسانی حقوق کے کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق قابض فوج نے مضافات میں لگائے گئے ٹینٹ اکھاڑنے کے لئے بلڈوزر استعمال کئے اور احتجاج کرنے والے متعدد کارکنوں کو گرفتار کر لیا جن میں فلسطینی قانون ساز اسمبلی کے رکن مصطفیٰ برغوثی شامل ہیں۔
یہودی بستیوں کے خلاف سرگرم کارکن عبداللہ ابو رحمہ نے بتایا کہ 300 کے قریب اسرائیلی فوجی ایک ہیلی کاپٹر سمیت فوجی گاڑیوں میں آدھی رات کے قریب آئے اور ان کے ہمراہ قیدیوں کو لے جانے کے لئے ایک بس بھی موجود تھی۔
انہوں نے بتایا کہ فوجیوں نے خیموں پر فورا فوٹون گرنیڈ پھینکے اور وہاں موجود اکثر کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔
اس سے پہلے ہفتے کے دن قابض فوج نے اس مضافات کے داخلی راستے پر رکاوٹیں کھڑی کر دیں تھیں اور یہاں پر کسی شخص اور اشیائے ضروریہ کو نہیں آنے دیا گیا۔
کارکن محمد قنادیلو نے قدس پریس کو بتایا تھا کہ قابض فوج کے دھاوے سے قبل تمام کارکن یہ عزم کر چکے تھے کہ وہ اس علاقے میں ڈٹے رہیں گے اور اسرائیل کے یہ علاقہ خالی کرنے کے حکم کے باوجود وہ نہیں جائینگے۔
قنادیلو نے کہا کہ” ہم یہاں اپنی زمینوں پر موجود ہیں اور قابض حکام کو یہاں سے جانا پڑے گا کیونکہ انہوں نے فلسطین اور یروشلم پر بنا کسی حق کے قبضہ کیا ہوا ہے۔ ہم اپنی زمین پر ثابت قدمی کے ساتھ ٹھہرے رہیں گے اور اس کو چھوڑ کے نہیں جائیں گے۔”
اسی تناظر میں ایک اور واقعہ میں ایک فلسطینی نوجوان نے ایک لڑکی سے ہفتے کی شام کو احفاد یونس مضافات میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ دونوں اسرائیل کی تعصبانہ کارروائیوں اور آبادکاری کے خلاف ہیں۔
مصعب عبید جن کا تعلق جنین اور ان کی منگیتر لینا شلالدہ جن کا تعلق الخلیل سے ہے دونوں کے خاندان ان کے یروشلم کے مشرق میں موجود ایزاریہ گاوں میں واقع گھر میں آئے اور ان کی شادی کی تقریب میں شرکت کی۔
احفاد یونس کا علاقہ یروشلم کے مشرق میں واقع باب الشمس گاوں کے کھنڈرات پر بنایا گیا ہے اور اس علاقے کو قابض اسرائیل نے ای 1 کا علاقہ بنایا ہوا ہے اور وہ اس میں 4000 آبادکاری یونٹ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جس سے یروشلم مغربی کنارے سے کٹ جائے گا۔
بشکریہ:مرکز اطکاعات فلسطین
