اسرائیلی فوج نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں تلاشی کی کارروائیوں میں یونیورسٹی کا ایک طالب علم گرفتار کرلیا جسے بعد ازاں کسی نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
عینی شاہدین نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ پیر کے روز صہیونی فوجیوں نے شمالی نابلس میں جامعہ النجاح کا محاصرہ کیا اور اندر سے آنے والے ایک طالب علم عبداللہ درویش بنی کو حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے جانے والے طالب علم کا تعلق اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے طلباء ونگ اسلامک بلاک سے بتایا جاتا ہے۔
ادھر نابلس ہی میں صہیونی فوجیوں نے ایک گھر میں گھس کر نافر عبدالمغنی ابو مجدی نامی ایک شہری کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
فلسطینی پر تشدد کا واقعہ اس وقت نہایت دلچسپ صورت اختیار کرگیا جب یہودی فوجیوں نے نافر سے کہا کہ اس کا ایک گدھا مغربی کنارے کے سیکٹر ” C ” میں فوجی کیمپ کے قریب گھوم رہا ہے۔ اس پر فلسطینی شہری نے کہا کہ اس کا گدھا تو گھر میں بندھا ہے اور وہ انہیں گدھا دیکھانے کے لیے بھی لے گیا لیکن اس کے باوجود یہودی فوجیوں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ صہیونی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں پر وحشیانہ تشدد روز کا معمول ہے اور گذشتہ روز پیش آئے اس واقعے کے بعد بھی شہریوں نے قابض فوج کے خلاف سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
