قابض اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے رام اللہ شہر کے گاؤں بدرس میں ایک نوجوان کو گولیوں کی بوچھاڑ کر کے شہید کر دیا۔ دیہی کونسل کے سربراہ نے بتایاکہ صہیونی اہلکاروں کی بڑی تعداد نے اچانک گاؤں پر دھاوا بولا اور اسکول کے طلبہ پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔
جان بوجھ کر کی گئی اس فائرنگ کی زد میں آکر سترہ سالہ لڑکا سمیر عوض شہادت پا گیا، شہید کے سر اور سینے میں گولیاں لگیں۔
دیہی کونسل کے سربراہ نے بتایا کہ وہ پہلے بھی بارہا متنبہ کر چکے ہیں کہ اسرائیلی فورسز کے اس گاؤں پر حملے بڑھتے جا رہے ہیں۔ صہیونی اہلکار آئے روز اس علاقے میں گھس کر فائرنگ کر تے رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جس اسکول کے طلبہ پر فائرنگ کی گئی وہ اسکول نسلی امتیاز کی مظاہر دیوار فاصل سے صرف 500 میٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس دیوار کے قریب اسرائیلی اہلکار ہمہ وقت سکیورٹی سخت رکھتے ہیں اور اس کے قریب کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اس حساس علاقے میں واقع اس اسکول کے طلبہ کو کبھی بڑا نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔
سترہ سالہ لڑکے کی شہادت کے بعد گاؤں میں جھڑپیں شروع ہو گئیں اور مشتعل نوجوانوں نے اسرائیل کے خلاف شدید احتجاج کیا، اسرائیلی فوج کے لاٹھی چارج اور تشدد سے متعدد نوجوانوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
