اسرائیلی فوج اور پولیس نے مقبوضہ مغربی کنارے سے دو ہفتے قبل پراسرار طور پر لاپتا ہونے والے یہودی آباد کاروں کی تلاش کی آڑ میں جاری ظالمانہ مہم کے دوران کم سے کم سات فلسطینیوں کو شہید، درجنوں کو زخمی اور سیکڑوں کو حراست میں لے لیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم "مرکز احرار” کی جانب سے جاری ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مغربی کنارے میں دو ہفتوں سے جاری اسرائیلی فوج کی ظالمانہ مہم میں شہداء کی تعداد سات ہوگئی ہے۔تنظیم کے ڈائریکٹر فواد الخفش نے بتایا کہ شہید ہونے والے چھ افراد کو گولیاں ماری گئیں جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوئی جبکہ ایک فلسطینی وادی اردن میں بارودی سرنگ پھٹنے سے شہید ہوا۔ چھ فلسطینی موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے تاہم اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی 24 سالہ مصطفیٰ اصلان کل بدھ کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کرگیا جس کے بعد شہداء کی تعداد سات ہوگئی ہے۔
دیگر شہداء میں 23 سالہ احمد عرفات الصبارین، 13 سالہ جہاد دودین، 16 سالہ ضرغام ابو محسن، 31 سالہ احمد ابو سعید،27 سالہ احمد سعید خالد اور 30 سالہ محمود عطاء اللہ الطریفی شامل ہیں۔
انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ نے صہیونی فوج کی جانب سے یہودی آباد کاروں کی تلاش کی آڑ میں نہتے فلسطینیوں کے خلاف جاری اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
