مقامی ذرائع سے مرکزاطلاعات فلسطین کو ملنے والی اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ قابض فوجیوں نے بلڈوزروں کے ذریعے فصلوں اور دیگر کوڑے کے ڈھیروں سے کوڑا کرکٹ اٹھا کرپانی کے بڑے حوضوںمیں ڈال کر انہیں گندی سے بھر دیا۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے قابض فوجیوں کو ایسا کرنے سے روکنے کی کوشش کی اور پانی کنوؤں میں مٹی اور ملبہ ڈالنے کےخلاف احتجاج کیا لیکن قابض فوج نے انہیں گرفتار کرکےغائب کرنے کی دھمکیاں دیں، جس کے بعد وہ واپس آگئے۔
جنین کے مقامی شہری جو پانی کے اس کنوئیں سے استفادہ کر تے تھے کاکہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی روز مرہ کی بنیاد پران کے دیہاتوں میں گھومتے ہیں اور کہیں بھی پانی کا چشمہ یا کنوا ملے تو اسے تباہ کردیتےہیں۔ انہیں نہ صرف مویشیو اور کھیتوں کو پانی دینے میں مشکلات کا سامنا ہے بلکہ پانی کے لیے صاف پانی بھی شدید قلت ہوچکی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
