مغربی کنارے کی مشرقی جانب اردنی سرحد پر پھیلی وادی اردن کے علاقے علاقے المالح کے غلہ بانوں اور بدو فلسطینیوں کی جانب سے مسلسل موصول ہونے والی شکایات کے مطابق
فوج نے علاقے کو پانی فراہمی کے واحد ذریعے واٹر ٹینکوں کو قبضے میں لے لیا ہے۔ صہیونی فوج کی اس جارحیت کے بعد علاقے میں پانی کی شدید قلت کے باعث بڑے انسانی بحران کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
علاقے میں رہائش پذیر فلسطینی چرواہوں اور کسانوں نے پانی کی قلت سے مجبور ہوکر بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ چرواہوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج انہیں قریبی یہودی بستیوں میں موجود کنووں سے پانی لانے سے بھی روک دیتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فلسطینی شہریوں کو پانی کے ٹینکرز سے محروم کرنے کا معنی ان کی زندگی کا خاتمہ ہے۔ اسرائیلی فوج کا مقصد بھی مقامی آبادی کی پانی پر بندش لگا کر انہیں ہجرت پر مجبور کرنا تھا جس میں وہ کامیاب ہو رہا ہے اور دن بدن مقامی لوگ نقل مکانی کرتے جا رہے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

