مقامی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے گائوں کے قریب موجود زیتون کے باغات کو گھیرے میں لے لیا اور کسانوں پر آنسو گیس کی مدد سے حملہ کردیا جس کی وجہ سے کئی کسانوں کو سانس لینے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔
فوجیوں نے کسانوں پر حملہ کرکے انہیں زمین سے بھگانے کی کوشش کی مگر کسانوں نے بھاگنے سے انکار کردیا اور فوجیوں کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔
اس موقع پر اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم "یش دن” نے تازہ اعداد و شمار شائع کرتے ہوئے بتایا ہے کہ فلسطینی باغات پر آبادکاروں کے حملوں میں سے 96٫6 فی صد واقعات کی تحقیقات اسرائیلی پولیس کی ناکامی کی وجہ سے بند کردی جاتی ہیں۔
"یش دن” کے مطابق 2005 اور ستمبر 2014 کے دوران مغربی کنارے میں پھل دار درختوں کو نقصان پہنچانے کے 246 واقعات کی شکایات پر پولیس تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔
ان 246 واقعات میں سے صرف چار واقعات کی تحقیقات مکمل کی گئیں جبکہ 223 واقعات کو تحقیقاتی ناکامیوں کی وجہ سے بند کردیا گیا۔ یش دن کے مطابق ان حملوں میں سے سب سے زیادہ فلسطینی گائوں بیورن میں پیش آئے۔
صرف بیورن میں ہی 9 سالوں کے دوران 35 واقعات ریکارڈ کئے گئے تھے۔ ان میں سے صرف ایک واقعہ کا فیصلہ سامنا آیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
