قابض اسرائیلی فوج نے یہودیوں کی عید کے باعث غزہ کو بین الاقوامی دنیا سے ملانے والی کاروباری اہمیت کی سرحدی کراسنگ کرم ابو سالم چار روز کے لئے بند کر رکھی ہے۔
کرم ابو سالم کراسنگ کے ڈائریکٹر میجر منیر الغلبان کا کہنا تھا کہ کرم ابو سالم کراسنگ کو بند رکھنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب غزہ کی پٹی کو بنیادی ضرورت کی متعدد اجناس کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا غزہ داخلے کے لئے منظور شدہ اشیائے صرف کی مقدار اور معیار میں بہتری کے باوجود یہ اہالیاں علاقہ کی ضرورت کے لئے ناکافی ہیں۔
غزہ کے محاصرے کی وجہ سے شہر کے اٹھارہ لاکھ باسی ایندھن سمیت بنیادی ضرورت کی اشیاء کو ترس رہے ہیں۔ مصری حکام کی جانب سے رفح کراسنگ کی بندش اور دونوں ملکوں کو ملانے والی زیر زمین سرنگوں کی تباہی کے بعد سے محاصرہ زدہ غزہ میں ایندھن اور انسانی بحران میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
یاد رہے کہ زیر زمین سرنگوں کے ذریعے بنیادی ضرورت کی اشیاء کی ترسیل کسی حد تک ممکن رہی ہے، تاہم انہیں تباہ کرنے کے بعد شہر کے باسی نان جویں کو ترس رہے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
