مقبوضہ بیت المقدس کی اسرائیلی پولیس قیادت نے سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر بیت المقدس کے چھ رہائشیوں کو دو ہفتے سے لے کر چھ مہینوں تک مسجد اقصیٰ اور اس کی حدود میں داخلے سے روک دیا ہے۔
ان فلسطینیوں کی شناخت کچھ یوں کی گئی ہے: مسجد کی ایک طالبہ ام طارق الھشلمون، اسلامی اوقاف کے ایک رکن حسام صدر، محمود عبدالطیف، مصباح ابو صبیح، حمزہ رویدھی اور رامی الفخوری۔اسرائیلی پولیس نے اسرائیلی خفیہ اہلکاروں کے تعاون سے الھشلمون کے گھر پر دھاوا بول دیا اور ان کے خاندان کو ان کی طلبی کا نوٹس پہنچا دیا۔ جب وپ القشلہ پولیس آفس پہنچی تو انہیں ایک خط ملا جس میں ان کے لئے مسجد اقصٰی سے تین ماہ دور رہنے کے احکامات تھے۔
حسام صدر اور محمود عبدالطیف کو بھی اسی طرح کے احکامات ملے ہیں مگر انہیں چھ ماہ کے دورانیے کے لئے دور رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ صدر کو باب حطہ کے نزدیک حراست میں لیا گیا تھا اور انہیں ان کے احکامات تھما دئیے گئے تھے۔
چوبیس سالہ رامی صالح الفخوری کو 24 گھنٹے مختلف تفیتیشی مراکز میں قید رکھنے کے بعد دوہفتوں تک مسجد اقصٰی سے دور رہنے کے احکامات جاری کردئیے گئے تھے۔
وادی حلوہ انفارمیشن سنٹر نے بتایا ہے کہ 25 سالہ محمد رویدھی کو باب حطہ کے سامنے سے حراست میں لیا گیا تھا۔ سنٹر کے مطابق اسرائیلی سپیشل فورسز نے رویدھی کو رائفل کے بٹوں سے تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں زنجیروں میں جکڑ کے القشلہ سنٹر منتقل کردیا گیا۔ رویدھی پر الزام تھا کہ انہوں نے اسرائیلی پولیس کے کام میں رکاوٹ ڈالی ہے اور ایک پولیس والے پر حملہ کیا ہے۔
